Friday, January 27, 2017
Collection of unique Urdu Poetry
پھر دل نے کیا ترکِ تعلق کا ارادہ
پھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے
آتی تو ہوگی ذہن میں گزرے دنوں کی سوچ کرتا تو ہوگا یاد وہ مجھ کو_____ کبھی کبھی
"حسرتِ دیدار" بھی کیا چیز ھے..............صاحب! وُہ سامنے ہوں تو مسلسل دیکھا بھی نہیں جاتا !
تیرے پیکر کی ہر اک ادا الوداع...
تجھ سے باتیں ختم__روٹھ جانا ختم !!
وہی منزلیں وہی راستے وہی رتجگے وہی فاصلے نہ تو نیند هے، نہ ہی خواب هے تیری یاد خار گلاب هے
اک طرزِ تغافل ہے سو وہ اُن کو مبارک اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
او میرے مصروف خدا... اپنی دنیا دیکھ ذرا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے... آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
ﺍﺏ ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﮧ ﺗﺎﺏِ ﺑﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ !! ﺍﺏ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭہی !!
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﻝ ﺑﮕﺎﮌﮮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ••• ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﻮﮞ •••
پھر یوں ہوا کہ دل سے اتر گیا وہ شخص پھر یوں ہوا کہ جان سے پیارا نہیں رہا
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﯿﺌﮯ،،، _____ ،،،ﻏﺎﻟﺐ،،، _ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﺁﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ،،، _____ ،،،ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ
اِک عمر سے عَادت ہے تِیرے شَام و سحَر کی اَب کُون تِیری یَاد کے مَعمول سے نِکلے۔۔
ﺍﺏ ﺣﺎﻝ ﺩﻝ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﮧ ﺗﺎﺏ ﺑﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
محبت کرنے والے کم نه هوں گے.....! تیری محفل میں لیکن هم نه هوں گے
کیوں ایک دعا میں اٹک کے رہ گیا ہے،، ____دل___ کیوں...؟؟ مجھ سے تیرے سوا کچھ مانگا نہیں جاتا
Yehan Kisi Ko Bhi Hasb-E_Aarzu Na Mila Kisi Ko Hum Na Mile Aur Hum Ko Tu Na Mila...
دائم آباد رہے گی دنیا ہم نہ ہونگے کوئ ہم سا ہوگا
اب کہیں جا کے سمیٹی ھے امیدوں کی بساط__،؛، ورنہ اک عمر کی ضد تھی مجھے سنبھالے کوئی__!!
تو یہ طہ ہوا کہ، ضروری کٌچھ بھی نہیں۔۔ تٌو بھی نہیں۔۔۔!!!
ان پڑھ ھوں.. صاحب.. بس اُسکے ِسوا.. کچھ نہیں آتا..
دل کی خاموشی سے سانسوں کے ٹهرجانے تک... یاد آئیگا وه شخص مجهے مر جانے تک...
اپنی جانب سے دل کو صاف کیا جا محبت!!! تجهے معاف کیا
لفظ ٹوٹے لب اظہار تک آتے آتے مر گئے ہم تیرے معیار تک آتے آتے
ﺳﯿﺎﮦ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺴﻦ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
یہ شرطِ اُلفت بھی عجیب ہے محسن میں پُورا اُترتا ہوں وہ معیار بدل دیتے ہیں
اک دم اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا... جانے کیا بات درمیاں آئی
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
پھر حساب کون رکھتا ہے.... عشق جب بے حساب ہوجاۓ
بھولتا ہی نہیں __ بھول جانا تیرا__.
یہ بھی نہیں کہ پاس میرے اب نہیں رہا یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص
شامِ فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آ کے ٹل گئی... دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
اک تری دید چھن گئی مجھ سے... ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
ﺍِﮎ ﻭﮦ ﺑﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍِﮎ ﺩﻝ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ __
زندگی روز طلب کرتی ہے مجھ کو مجھ سے اور میں ہاتھ جھٹکتا ہوں گزر جاتا ہوں
مرحلہ بیچ کا نہیں ہوتا عشق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ... ﺗﻢ ﺗﻮ ﻟﮯ ﮈﻭ ﺑﮯ ﮨﻤﯿﮟ
ﺍﺗﻨﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻣﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ *,,, ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﻟﮕﺎ ﺩﮮ ﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ
یکایک بے سہارا کر گیا ہے ... وہ چپکے سےکنارہ کر گیا ہے
Phir kuchh ek dil ko beqarari hai.. Seena joyae zakhm kaari hai...!! Phir usi bewafa pe marte hain.. Phir wohi zindgi hamari hai...!!
ہم نے دیکھا ہے زمانے کا بدلنا لیکن ان کے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے
ﺩﻻﺳﮧ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ، ﺗﻤﺎﺷﮧ ﺧﻮﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ
محبت ختم ہوئ تجھ پر اب جو ہوگا تماشا ہوگا
شکوہ اول تو بے حساب کیا... اور پھر بند ہی یہ باب کیا
جو بساطِ جاں ہی ُالٹ گیا، وہ جو راستے میں پلٹ گیا اسے روکنے سے حصول کیا، اسے مت بلا، اسے بھول جا
کس طرح چھوڑ دوں تمھیں جاناں... تم مری زندگی کی عادت ہو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
if u like it then do let me know :)
ReplyDelete